ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النمل (27) — آیت 50

وَ مَکَرُوۡا مَکۡرًا وَّ مَکَرۡنَا مَکۡرًا وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾
اور انھوں نے ایک چال چلی اور ہم نے بھی ایک چال چلی اور وہ سوچتے تک نہ تھے۔ En
اور وہ ایک چال چلے اور ان کو کچھ خبر نہ ہوئی
En
انہوں نے مکر (خفیہ تدبیر) کیا اور ہم نے بھی اور وه اسے سمجھتے ہی نہ تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51،50) {وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا …:} ان کی چال تو وہ منصوبہ تھا جس پر انھوں نے آپس میں قسمیں کھائیں اور اللہ تعالیٰ کی چال یہ تھی کہ اس نے دوسرے انبیاء کی طرح صالح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔ ان کے نکلنے کی دیر تھی کہ اس شہر بلکہ قومِ ثمود کے پورے علاقے میں شدید زلزلے کا عذاب آیا، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ [الأعراف: ۷۸] تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا۔ جس کے ساتھ خوف ناک چیخ کی آواز بھی تھی، فرمایا: «{ وَ اَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ ‏‏‏‏ [ھود: ۶۷۔ القمر: ۳۱] اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں چیخ نے پکڑ لیا۔ جس سے ان کی بستیاں برباد ہو گئیں اور وہ نو (۹) بدمعاش اور ان کی قوم کے لوگ سب ہلاک ہو گئے۔