(آیت 81) {وَالَّذِيْيُمِيْتُنِيْثُمَّيُحْيِيْنِ:} یہ دونوں حصر کے بغیر ہیں، کیونکہ ان میں حصر کی ضرورت نہیں تھی کہ کہا جائے وہی مجھے موت دے گا اور وہی مجھے زندہ کرے گا، کیونکہ سب مانتے ہیں کہ مارنا یا زندہ کرنا صرف ”رب العالمین“ کا کام ہے، اور کسی کا یہ دعویٰ ہی نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے دور کے جبار نے جو کہا تھا: «{ اَنَااُحْيٖوَاُمِيْتُ }»[البقرۃ: ۲۵۸] (میں زندگی بخشتا اور موت دیتا ہوں) وہ محض اس کی ڈھٹائی اور بے شرمی تھی، اس کے دعوے کو کسی نے وقعت ہی نہیں دی۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔