(آیت 8) { اِنَّفِيْذٰلِكَلَاٰيَةًوَمَاكَانَاَكْثَرُهُمْمُّؤْمِنِيْنَ:} یعنی آسمان و زمین اور اس میں پائی جانے والی بے شمار نفیس ترین چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید کی بہت بڑی نشانی ہے، مگر ان کے اکثر شروع ہی سے ایمان لانے والے نہ تھے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَفِيالْاَرْضِاٰيٰتٌلِّلْمُوْقِنِيْنَ (20) وَفِيْۤاَنْفُسِكُمْاَفَلَاتُبْصِرُوْنَ }»[الذاریات: ۲۰، ۲۱]”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمھارے نفسوں میں بھی، تو کیا تم نہیں دیکھتے؟“ مزید دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۵)، حٰم السجدہ (۹، ۱۰) اور لقمان (۱۰، ۱۱)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔