(آیت 74) {قَالُوْابَلْوَجَدْنَاۤاٰبَآءَنَاكَذٰلِكَيَفْعَلُوْنَ:} یعنی لکڑی، پتھر اور دھات کے یہ بت سنتے تو نہیں، نہ ہی کوئی نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں، مگر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو قدیم زمانے سے ایسے ہی کرتے ہوئے پایا ہے، تو کیا وہ سب بے وقوف تھے جو ان کی پوجا کرتے رہے، آخر ان کے پاس ان کی عبادت کی کوئی دلیل تو ہو گی۔ گویا جب کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو باپ دادا کی تقلید کا سہارا لیا، جو ہر اندھے کی لاٹھی اور ڈوبنے والے کے لیے آخری تنکا ہے۔ یہی حال ان مقلد حضرات کا ہے جو اس لیے اپنے امام کی تقلید کرتے جا رہے ہیں کہ فلاں فلاں بزرگ بھی تو ان کی تقلید کرتے رہے ہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔