(آیت 68) {وَاِنَّرَبَّكَلَهُوَالْعَزِيْزُالرَّحِيْمُ:} یعنی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا اور اپنے ماننے والوں پر رحم کرنے والا ہے۔ چنانچہ دیکھو دم بھر میں فرعون کو غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کو نجات دلا کر بادشاہ بنا دیا۔ اس میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا، اگر ہجرت کے بعد مکہ کے فرعونوں نے آپ کا تعاقب کیا تو ان کا حال بھی مصر کے فرعون جیسا ہو گا اور پھر واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی اور بدر کے میدان میں مکہ کے فرعونوں کو تباہ و برباد کیا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔