ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 51

اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ یَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنۡ کُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۵۱﴾
بے شک ہم لالچ رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے لیے ہماری خطائیں معاف کرے گا، اس لیے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں
اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) {اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی دلیل واضح ہو جانے کے بعد قومِ فرعون میں سے سب سے پہلے ہم ایمان لائے۔
نوٹ! آیت (۴۱) سے (ا۵) تک کی تفسیر کے لیے سورۂ اعراف (۱۱۳ تا ۱۲۶) اور سورۂ طٰہٰ (۶۵ تا ۷۵) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔