ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 50

قَالُوۡا لَا ضَیۡرَ ۫ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿ۚ۵۰﴾
انھوں نے کہا کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ نقصان (کی بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانے والے ہیں
انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) { قَالُوْا لَا ضَيْرَ …: لَا ضَيْرَ } کوئی نقصان نہیں۔ {ضَارَ يَضِيْرُ ضَيْرًا} اور {ضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا} ہم معنی ہیں، یعنی بہرحال اللہ کی طرف تو لوٹنا ہی ہے، اس طرح مریں گے تو شہادت کا درجہ پائیں گے اور صبر کا اجر ملے گا۔ (وحیدی)