(آیت 37،36) {قَالُوْۤااَرْجِهْوَاَخَاهُ …:} ان آیات کی تفسیر سورۂ اعراف (۱۱۱، ۱۱۲) میں گزر چکی ہے، فرق یہ ہے کہ وہاں {”اَرْسِلْ“} ہے اور یہاں {”ابْعَثْ“ } ہے، دونوں ہم معنی ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں {”سٰحِرٍعَلِيْمٍ“} ہے اور یہاں {”سَحَّارٍعَلِيْمٍ“} ہے، یہاں مبالغہ کا صیغہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے: ”کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔“ جبکہ وہاں ترجمہ ہے ”کہ وہ تیرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے آئیں۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔