ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 36

قَالُوۡۤا اَرۡجِہۡ وَ اَخَاہُ وَ ابۡعَثۡ فِی الۡمَدَآئِنِ حٰشِرِیۡنَ ﴿ۙ۳۶﴾
انھوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو مؤخر رکھ اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے۔
انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے
ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37،36) {قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ …:} ان آیات کی تفسیر سورۂ اعراف (۱۱۱، ۱۱۲) میں گزر چکی ہے، فرق یہ ہے کہ وہاں {اَرْسِلْ } ہے اور یہاں {ابْعَثْ } ہے، دونوں ہم معنی ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں { سٰحِرٍ عَلِيْمٍ } ہے اور یہاں { سَحَّارٍ عَلِيْمٍ } ہے، یہاں مبالغہ کا صیغہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے: کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔ جبکہ وہاں ترجمہ ہے کہ وہ تیرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے آئیں۔