ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 3

لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳﴾
شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔ En
(اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے
En
ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) {لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ …:} اس سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ ان بدبختوں کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر رنجیدہ نہ ہوں، قرآن سے بڑا معجزہ کوئی نہیں، وہ آپ نے انھیں دکھلا دیا، اب بھی ایمان نہیں لاتے تو ان پر اتنا غم کرنے کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے سورۂ کہف کی آیت (۶) اور سورۂ فاطر کی آیت (۸)کی تفسیر۔