(آیت 3) {لَعَلَّكَبَاخِعٌنَّفْسَكَ …:} اس سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ ان بدبختوں کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر رنجیدہ نہ ہوں، قرآن سے بڑا معجزہ کوئی نہیں، وہ آپ نے انھیں دکھلا دیا، اب بھی ایمان نہیں لاتے تو ان پر اتنا غم کرنے کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے سورۂ کہف کی آیت (۶) اور سورۂ فاطر کی آیت (۸)کی تفسیر۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔