(آیت 27) { قَالَاِنَّرَسُوْلَكُمُالَّذِيْۤاُرْسِلَاِلَيْكُمْلَمَجْنُوْنٌ:} موسیٰ علیہ السلام کی دلیل اتنی واضح اور زبردست تھی کہ فرعون اس کا جواب دینا چھوڑ کر موسیٰ علیہ السلام کی ذات پر حملہ آور ہو گیا اور کہنے لگا، یقینا تمھارا یہ رسول، جو تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، ضرور پاگل ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے چہرے پر حکمت و دانائی اور نور فراست کے آثار ان کے دیوانہ یا پاگل ہونے کی نفی کر رہے تھے، اس لیے فرعون نے {”اِنَّ“} اور ”لام تاکید“ کے ساتھ انھیں مجنون قرار دیا کہ یقینا یہ ضرور پاگل ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔