ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 25

قَالَ لِمَنۡ حَوۡلَہٗۤ اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴿۲۵﴾
اس نے ان لوگوں سے کہا جو اس کے ارد گرد تھے، کیا تم غور سے نہیں سنتے؟ En
فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں
En
فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) { قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ:} ظاہر ہے فرعون رب اعلیٰ ہونے کا لاکھ دعویٰ کرے، آسمان و زمین کے ایک ذرّے کا خالق و پروردگار نہیں تھا اور اپنی اوقات کو خوب جانتا تھا، جب وہ موسیٰ علیہ السلام کی بات کا جواب نہ دے سکا تو بات کو خلط ملط کرنے، اپنے درباریوں کو ابھارنے اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کی دلیل کو بے وزن بنانے کے لیے کہنے لگا، کیا تم غور سے سنتے نہیں، یہ شخص کیسی عجیب بات کر رہا ہے؟ کیا ایسی بات کبھی تمھارے سننے میں آئی بھی ہے؟