(آیت 222،221) {هَلْاُنَبِّئُكُمْعَلٰىمَنْتَنَزَّلُالشَّيٰطِيْنُ …:”اَفَّاكٍ“”إِفْكٌ“} میں سے مبالغہ ہے، زبردست جھوٹا۔ {”اَثِيْمٍ“”إِثْمٌ“} میں سے مبالغہ ہے، سخت گناہ گار۔ پہلے فرمایا تھا کہ شیاطین نہ یہ قرآن لے کر اترے ہیں نہ ان کے لیے یہ ممکن ہے، اب یہ بیان ہے کہ شیاطین کا قرآن لے کر آنے کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترنا بھی محال ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق و امین ہیں اور خیر کی تمام خوبیوں سے آراستہ ہیں، شیاطین تو ایسے لوگوں پر اترتے ہیں جو نہایت جھوٹے اور سخت گناہ گار ہوں، کیونکہ انھوں نے انھی لوگوں پر اترنا ہوتا ہے جن کے دلوں میں ان کی بات قبول کرنے کی استعداد ہو اور جو جھوٹ، خیانت، خبث اور دوسری کمینگیوں میں ان کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں۔ مراد اس سے وہ کاہن، نجومی، جوتشی، چوریاں بتانے والے اور عامل قسم کے لوگ ہیں جو غیب دانی کا ڈھونگ رچاتے اور لوگوں کو ان کی قسمتیں بتاتے پھرتے ہیں۔ کچھ جنّوں اور موکّلوں کی تسخیر کے دعوے سے اپنا کاروبار چلاتے پھرتے ہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔