ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 22

وَ تِلۡکَ نِعۡمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۲۲﴾
اور یہ کوئی احسان ہے جو تو مجھ پر جتلا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ En
اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
En
مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) {وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ …:} یہ اس کے پہلے طعن کا جواب ہے، یعنی آج تو مجھ پر یہ احسان کیسے جتلا سکتا ہے کہ تو نے اپنے گھر میں رکھ کر میری پرورش کی، حالانکہ اس کا سبب تیرا ظلم و ستم تھا۔ اگر تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان کے بیٹوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع نہ کر رکھا ہوتا تو میں اپنے گھر میں پرورش پاتا، میری والدہ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ مجھے صندوق میں بند کرکے دریا میں بہاتی اور اس طرح میں تیرے گھر پہنچ جاتا۔