ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 215

وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۱۵﴾ۚ
اور اپنا بازو اس کے لیے جھکا دے جو ایمان والوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔
اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے متواضع پیش آؤ
اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 215) {وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ …:} ڈرانے کی ضرورت اس کے لیے ہے جو اعراض کرے، جو پیروی اختیار کرے اس کے لیے اس کے برعکس حکم دیا، فرمایا مومنوں میں سے جو آپ کے پیچھے چلیں، اپنے ہوں یا پرائے، ان کے لیے اپنا (شفقت کا) بازو جھکا دیں، جس طرح مرغی کسی خطرے کو محسوس کرکے اپنے بچوں کو اپنے پروں میں لے لیتی ہے اسی طرح آپ بھی اے پیغمبر! ان کو اپنی رحمت و عنایت کے بازؤوں کے نیچے چھپائے رکھیں۔ نرمی کا یہ حکم ان پیچھے چلنے والوں کے لیے ہے جو مومن ہیں۔ معلوم ہوا جو لوگ قرابت کی وجہ سے آپ کا ساتھ دیتے تھے، جیسے ابوطالب، بنو ہاشم اور بنو مطلب، یا حق کو پہچاننے کی وجہ سے ساتھ دیتے تھے مگر ایمان نہیں لاتے تھے، ان کے ساتھ مومنوں والی نرمی اور شفقت کا حکم نہیں۔