ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 213

فَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُعَذَّبِیۡنَ ﴿۲۱۳﴾ۚ
سو تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکار، ورنہ تو عذاب دیے جانے والوں سے ہوجائے گا۔
تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا، ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا
پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 213) {فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ …:} قرآن کے حق اور منزل من اللہ ہونے کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اللہ کو پکارنے اور اس کے سوا کسی کو بھی نہ پکارنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر کسی اور کو پکارو گے تو عذاب دیے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، مگر اصل مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نہ شرک کیا نہ کرنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے مخاطب کیا کہ سب لوگ آگاہ ہو جائیں کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ بالفرض رسول سے سرزد ہو جائے تو اسے بھی عذاب ہو گا، پھر دوسرے لوگوں کا کیا حال ہو گا؟ جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ [الزمر: ۶۵] اور بلاشبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔