ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 204

اَفَبِعَذَابِنَا یَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾
تو کیا وہ ہمارا عذاب ہی جلدی مانگتے ہیں۔
تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں
پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 204) {اَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُوْنَ:} یعنی عذاب آئے گا تو مہلت کا مطالبہ کریں گے اور آج مہلت ملی ہوئی ہے تو عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں: «{ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ [الأنفال: ۳۲] تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ کبھی کہتے ہیں: «{ فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ [الشعراء: ۱۸۷] سو ہم پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دے۔ کبھی کہتے ہیں: «{ اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيْلًا [بني إسرائیل: ۹۲] یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔ کبھی کہتے ہیں: «{ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [یونس: ۴۸] یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔