ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 190

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۹۰﴾
بے شک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔
اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 191،190){ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً …:} اس سورت میں سات انبیاء کے واقعات میں سے ہر ایک کے آخر میں یہ الفاظ آئے ہیں، ان سے مقصود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا اور جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنا ہے کہ ان میں سے ہر واقعہ میں ایک عظیم نشانی ہے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بار بار دہرانے سے بات زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔