ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 165

اَتَاۡتُوۡنَ الذُّکۡرَانَ مِنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۵﴾ۙ
کیا سارے جہانوں میں سے تم مردوں کے پاس آتے ہو۔
کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو
کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 165){ اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ سارے جہانوں میں سے تم نے مردوں کو اس کام کے لیے چن لیا ہے کہ ان سے خواہش نفس پوری کرو، حالانکہ دنیا میں عورتیں بہت ہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا بھر میں تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت پوری کرنے کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو، تم سے پہلے کسی نے یہ خسیس حرکت نہیں کی۔ اس مفہوم کی صراحت سورۂ عنکبوت میں اس طرح آئی ہیں: «{ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ [العنکبوت: ۲۸] بے شک تم یقینا اس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔