(آیت 141تا145) ➊ {كَذَّبَتْثَمُوْدُالْمُرْسَلِيْنَ …:} ثمود اور صالح علیھما السلام کا قصہ اس سے پہلے سورۂ اعراف (۷۳ تا ۷۹)، ہود (۶۱ تا ۶۸)، حجر (۸۰ تا ۸۴) اور بنی اسرائیل (۵۹) میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نمل (۴۵ تا ۵۳)، ذاریات (۴۳ تا ۴۵)، قمر (۲۳ تا ۳۱)، فجر (۹) اور شمس (۱۱)۔ ➋ { اِنِّيْلَكُمْرَسُوْلٌاَمِيْنٌ:} صالح علیہ السلام کی قوم بھی ان کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کو مانتی تھی۔ (دیکھیے ہود: ۶۲) قوم کا انھیں {”اِنَّمَااَنْتَمِنَالْمُسَحَّرِيْنَ“} کہنے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے وہ ان کے نزدیک نہایت سمجھ دار اور عقل مند تھے اور ان کی حالت کی تبدیلی ان کے خیال سے جادو کا نتیجہ تھی۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔