ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 141

کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۚۖ
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔
(اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا
ﺛمودیوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 141تا145) ➊ {كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ …:} ثمود اور صالح علیھما السلام کا قصہ اس سے پہلے سورۂ اعراف (۷۳ تا ۷۹)، ہود (۶۱ تا ۶۸)، حجر (۸۰ تا ۸۴) اور بنی اسرائیل (۵۹) میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نمل (۴۵ تا ۵۳)، ذاریات (۴۳ تا ۴۵)، قمر (۲۳ تا ۳۱)، فجر (۹) اور شمس (۱۱)۔
➋ { اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ:} صالح علیہ السلام کی قوم بھی ان کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کو مانتی تھی۔ (دیکھیے ہود: ۶۲) قوم کا انھیں { اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ } کہنے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے وہ ان کے نزدیک نہایت سمجھ دار اور عقل مند تھے اور ان کی حالت کی تبدیلی ان کے خیال سے جادو کا نتیجہ تھی۔