ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 137

اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾ۙ
نہیں ہے یہ مگر پہلے لوگوں کی عادت۔
یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں
یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 138،137){ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَ …:} یعنی یہ بت پرستی، یادگاریں اور عالی شان عمارتیں بنانا اور اپنے مخالفین کے ساتھ ایسا سلوک کرنا کوئی ہمارا شیوہ ہی نہیں، یہی کچھ ہمارے پہلے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ ان کا دین بھی یہی تھا اور تمدن بھی یہی، نہ ان پر کوئی عذاب آیا نہ ہم پر آئے گا۔ آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نصیحت کی یہ باتیں جو تم ہم سے کر رہے ہو کوئی نئی نہیں ہیں، پہلے بھی ایسے خبطی گزرے ہیں جو اس طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ ہم پر ان کا کچھ اثر نہیں، نہ ہمیں کوئی عذاب ہو گا۔