ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 135

اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۳۵﴾ؕ
یقینا میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے
مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 135){ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ:} نصیحت کی ابتدا ڈرانے سے کی تھی، اب اسے ختم بھی اسی پر کیا، کیونکہ خوف ہی انسان کو غلط راستے سے پلٹنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ یعنی اگر تم ایمان نہ لائے تو میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ بہت بڑے عذاب سے کہنے کے بجائے فرمایا بہت بڑے دن کے عذاب سے مطلب یہ ہے کہ جب وہ دن ہی بہت بڑا ہے تو اس کا عذاب کتنا بڑا ہو گا۔