(آیت 116) {قَالُوْالَىِٕنْلَّمْتَنْتَهِيٰنُوْحُ …:} نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کی یہ گفتگو دو چار مواقع کی بات نہیں بلکہ ان کے ساتھ ان کی قوم کی یہ کش مکش ساڑھے نو سو (۹۵۰) برس جاری رہی۔ جیسے جیسے آپ دعوت کے کام میں آگے بڑھتے گئے وہ بدی میں آگے بڑھتے گئے۔ آخر کار تمام ظالم و جابر لوگوں کی طرح، جو دلیل میں لاجواب ہو کر دھمکیوں اور تشدد پر اتر آتے ہیں، نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ آئندہ اگر تم اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم پتھر مار مار کر تمھیں ختم کر دیں گے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔