(آیت 69) { يُضٰعَفْلَهُالْعَذَابُيَوْمَالْقِيٰمَةِ …: ”فِيْهٖ“} میں ہائے ضمیر کے کسرہ کے ساتھ یاء ملا دی گئی ہے، اسے اشباع کہتے ہیں۔ ان تینوں برائیوں کو ایک ہی {”الَّذِيْنَ“} کے صلے کے طور پر ذکر کیا ہے، گویا ان کے مجموعے کو ایک برائی قرار دیا ہے۔ {”ذٰلِكَ“} کا اشارہ بھی اس مجموعے کی طرف ہے۔ مراد اس سے کفار ہیں، کیونکہ مومن نہ غیر اللہ کو پکارتا ہے، نہ وہ ابدی جہنمی ہے، جبکہ ان تینوں کے مرتکب کے لیے دگنے عذاب کی اور اس میں ذلیل ہو کر ہمیشہ رہنے کی وعید ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔