(آیت 5){ وَقَالُوْۤااَسَاطِيْرُالْاَوَّلِيْنَاكْتَتَبَهَا …:} یعنی خود تو اَن پڑھ ہے، اس لیے دوسرے لوگوں کے ذمے اس نے یہ کام لگا رکھا ہے کہ صبح و شام یہ لکھوائی ہوئی کہانیاں اسے پڑھ پڑھ کر سنائیں، تاکہ اسے زبانی یاد ہو جائیں۔ یہ بات ایسی تھی جس کے جھوٹ اور بہتان ہونے میں کسی کو شبہ نہیں ہو سکتا۔ چالیس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں رہ چکے تھے، اگر کوئی شخص چھوٹے سے شہر میں چند دن صبح و شام کسی کے پاس رہے تو اس کا پتا ہر ایک کو چل جاتا ہے اور ان لوگوں کا اصرار ہے کہ اب بھی دوسروں کی لکھوائی ہوئی باتیں صبح و شام آپ کے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ پھر اگر ایسا ہی تھا تو وہ بھی کسی سے لکھو اکر ایسی ایک سورت ہی پیش کر دیتے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں