ایمان والوں کی بات، جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اس کے سوا نہیں ہوتی کہ وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
En
مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وه کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں
En
(آیت 51){ اِنَّمَاكَانَقَوْلَالْمُؤْمِنِيْنَ …:} پچھلی آیات میں منافقین کی حالت بیان ہوئی، اب اس آیت میں خالص مومنوں کا بیان اور ان کی تعریف ہے، یعنی سچے مومنوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب کسی تنازع کے فیصلے کے لیے انھیں اللہ اور اس کے رسول (کتاب و سنت) کی طرف بلایا جائے، خواہ اس میں بظاہر ان کا نفع ہو یا نقصان تو وہ ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے، بلکہ فوراً کہتے ہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی اور یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں کامیاب ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔