ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النور (24) — آیت 49

وَ اِنۡ یَّکُنۡ لَّہُمُ الۡحَقُّ یَاۡتُوۡۤا اِلَیۡہِ مُذۡعِنِیۡنَ ﴿ؕ۴۹﴾
اور اگر ان کے لیے حق ہو تو مطیع ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں۔ En
اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں
En
ہاں اگر ان ہی کو حق پہنچتا ہو تو مطیع وفرماں بردار ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49){وَ اِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ …: مُذْعِنِيْنَ أَيْ مُنْقَادِيْنَ} مطیع ہونے والے، یعنی جب دیکھتے ہیں کہ شریعت کے مطابق فیصلے میں ان کا فائدہ ہے، تب تو بڑے فرماں بردار بن کر آتے ہیں اور ایمان کے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں ورنہ دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور شریعت کے احکامات میں کیڑے نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ شریعت کی اس طرح کی پیروی اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی، کیونکہ یہ شریعت کی پیروی نہیں بلکہ نفس کی پیروی ہے۔ (ابن کثیر)