ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النور (24) — آیت 48

وَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔ En
اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے
En
جب یہ اس بات کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے جھگڑے چکا دے تو بھی ان کی ایک جماعت منھ موڑنے والی بن جاتی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 48){ وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ …:} واضح رہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جانے کا معاملہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ہی نہیں تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی سنت کی طرف جو دعوت دی جاتی ہے وہ اصل میں آپ ہی کی طرف دعوت ہوتی ہے، اس سے منہ موڑنے والے کا حکم بھی وہی ہے جو اس آیت میں منافقین کے گروہ کا بیان ہوا ہے۔