ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 90

بَلۡ اَتَیۡنٰہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۹۰﴾
بلکہ ہم ان کے پاس کامل سچ لائے ہیں اور بے شک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔ En
بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بےشک جھوٹے ہیں
En
حق یہ ہے کہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا ہے اور یہ بےشک جھوٹے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 90) ➊ { بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِالْحَقِّ: اَلْحَقُّ} سے مراد یہاں سچ ہے، کیونکہ مقابلے میں { لَكٰذِبُوْنَ } آ رہا ہے۔ کامل کا مفہوم الف لام سے حاصل ہو رہا ہے، یعنی ہم ان کے پاس جھوٹے قصے کہانیاں ({اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ})نہیں لائے، بلکہ ایسا سچ لائے ہیں جس میں کوئی نقص نہیں۔
➋ { وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ:} یعنی یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں، اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے، یا کوئی اس کا بیٹا ہے جسے خدائی اختیارات حاصل ہیں، یا وہ جو چاہے اللہ تعالیٰ سے منوا سکتا ہے اور اس بات میں جھوٹے ہیں کہ موت کے بعد زندگی ممکن نہیں ہے اور ان کا جھوٹ ان کے اعترافات سے ثابت ہے جو اوپر گزرے۔