(آیت 8){وَالَّذِيْنَهُمْلِاَمٰنٰتِهِمْوَعَهْدِهِمْرٰعُوْنَ:} عفت اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی امانت ہے، اس کے ذکر کے بعد عام امانتوں کی حفاظت کا ذکر فرمایا۔ عہد بھی ایک امانت ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا الگ ذکر فرمایا۔ {”رٰعُوْنَ“”رَعٰييَرْعٰي“} (ف) سے اسم فاعل ہے۔ فعل مضارع کے بجائے اسم فاعل لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی حفاظت کرتے ہیں، یہ ان کی عادت ہے۔ منافقوں کی طرح نہیں کہ جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [آيَةُالْمُنَافِقِثَلَاثٌإِذَاحَدَّثَكَذَبَوَإِذَاوَعَدَأَخْلَفَوَإِذَااؤْتُمِنَخَانَ][بخاري، الإیمان، باب علامات المنافق: ۳۳]”منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔