ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 36

ہَیۡہَاتَ ہَیۡہَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۶﴾
دوری ہے، دوری ہے اس کے لیے جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔ En
جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (بہت) بعید اور (بہت) بعید ہے
En
نہیں نہیں دور اور بہت دور ہے وه جس کا تم وعده دیئے جاتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36){ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ: هَيْهَاتَ } اسم مبنی جامد غیر مشتق ہے۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ فعل ماضی {بَعُدَ} (دور ہوا) کے معنی میں ہے۔ {مَا تُوْعَدُوْنَ} اس کا فاعل ہے اور لام فاعل کے بیان اور وضاحت کے لیے ہے۔ معنی ہو گا: دور ہے، دور ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔ زجاج نے اپنی تفسیر میں فرمایا اور زمخشری نے بھی اسی بات کو پسند کرنے کا اشارہ فرمایا ہے کہ یہ مصدر {بُعْدٌ} (دوری) کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہو گا کہ دوری ہے، دوری ہے اس کے لیے جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔ اس صورت میں لام کا معنی سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آتی، میں نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ مطلب یہ کہ مٹی اور ہڈیاں ہونے کے بعد دوبارہ قبروں سے زندہ نکالے جانے کی بات میں بہت بُعد ہے۔