ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 13

ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ﴿۪۱۳﴾
پھر ہم نے اسے ایک قطرہ بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ En
پھر اس کو ایک مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا
En
پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13){ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ:} اس میں آدم علیہ السلام کے بعد نسلِ انسانی کی پیدائش کا ذکر ہے، یعنی پھر اس مٹی کو یا مٹی سے بنی ہوئی اس مخلوق کو پانی کا ایک قطرہ بنا کر ایک نہایت محفوظ ٹھکانے (رحم مادر) میں رکھا۔ مٹی سے پانی کا قطرہ بنانا، جس میں مٹی کا نام و نشان نہیں اور اسے ماں کے رحم کے نہایت محفوظ ٹھکانے میں رکھ کر پانی کے قطرے کو نو (۹) ماہ میں مکمل انسان بنا دینا سب اس کی قدرت کا کمال ہے۔ { قَرَارٍ مَّكِيْنٍ } کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مرسلات (۲۰ تا ۲۲)۔