ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 110

فَاتَّخَذۡتُمُوۡہُمۡ سِخۡرِیًّا حَتّٰۤی اَنۡسَوۡکُمۡ ذِکۡرِیۡ وَ کُنۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ تَضۡحَکُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
تو تم نے انھیں مذاق بنالیا، یہاں تک کہ انھوں نے تم کو میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنسا کرتے تھے۔ En
تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے
En
(لیکن) تم انہیں مذاق میں ہی اڑاتے رہے یہاں تک کہ (اس مشغلے نے) تم کو میری یاد (بھی) بھلا دی اور تم ان سے مذاق ہی کرتے رہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 110) ➊ {فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِيًّا …: حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِيْ } کا لفظی معنی یہ ہے کہ انھوں نے تمھیں میری یاد بھلا دی۔ یعنی تم ان کے پیچھے ایسے ہاتھ دھو کر پڑے اور ان کا اس قدر مذاق اڑاتے رہے کہ گویا وہ تمھیں میری یاد بھلانے کا سبب بن گئے۔ (شوکانی)
➋ { وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ:} دیکھیے سورۂ مطففین (۲۹ تا ۳۶)۔