ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 104

تَلۡفَحُ وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ وَ ہُمۡ فِیۡہَا کٰلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾
ان کے چہروں کو آگ جھلسائے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھانے والے ہوں گے۔ En
آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے
En
ان کے چہروں کو آگ جھلستی رہے گی اور وه وہاں بدشکل بنے ہوئے ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 104) ➊ { تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ:} چہرے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ انسان کا سب سے اہم اور باشرف حصہ ہے اور انسان سب سے زیادہ اسی کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، جب آگ اسے بھی جلا رہی ہو گی تو جسم کے دوسرے حصوں کا کیا حال ہو گا۔
➋ { وَ هُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ: كَلَحَ } کا معنی ہے کہ اوپر کا ہونٹ اوپر اٹھ جائے اور نیچے کا مزید نیچے ہو جائے اور دانت باہر نکل آئیں، جس سے چہرہ شدید تیوری والا، نہایت بدشکل اور ڈراؤنا ہو جائے، جیسے بکرے کی جلی ہوئی سری ہوتی ہے۔