ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحج (22) — آیت 4

کُتِبَ عَلَیۡہِ اَنَّہٗ مَنۡ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ یُضِلُّہٗ وَ یَہۡدِیۡہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۴﴾
اس پر لکھ دیا گیا ہے کہ واقعہ یہ ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا تو وہ اسے گمراہ کرے گا اور اسے بھڑکتی ہوئی آگ کا راستہ دکھائے گا۔ En
جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو اس کو گمراہ کردے گا اور دوزخ کے عذاب کا رستہ دکھائے گا
En
جس پر (قضائے الٰہی) لکھ دی گئی ہے کہ جو کوئی اس کی رفاقت کرے گا وه اسے گمراه کر دے گا اور اسے آگ کے عذاب کی طرف لے جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4){ كُتِبَ عَلَيْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ …: تَوَلّٰي يَتَوَلّٰي} دوست بنانا۔ { عَلَيْهِ } میں ضمیر {هِ} شیطان کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پہلے{ اَنَّهٗ } میں ضمیر شان کی ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ واقعہ یہ ہے۔ اس سے مراد بات میں پختگی پیدا کرنا ہوتا ہے، یعنی شیطان کے متعلق لکھا جا چکا ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا شیطان اسے گمراہ کرے گا۔ مطلب یہ کہ قضائے الٰہی میں اس کے متعلق یہ طے کیا جا چکا ہے۔ لکھنے کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ بات لکھے جانے کے بعد پکی ہو جاتی ہے، یا یہ کہ لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔