(آیت 10) {وَاَنَّاللّٰهَلَيْسَبِظَلَّامٍلِّلْعَبِيْدِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۲) اور انفال (۵۱) بعض اہل علم نے اس کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ {”فَعَّالٌ“} کا وزن ہمیشہ مبالغہ کے لیے نہیں آتا، بلکہ بعض اوقات صرف نسبت کے لیے یعنی {”ذُوْشَيْءٍ“} (کسی چیز والا) کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے {”سَمَّانٌ“} (گھی والا)، {”قَطَّانٌ“} (روئی والا)، {”حَدَّادٌ“} (لوہار)، {تَمَّارٌ} (کھجوروں والا)، مطلب یہ ہے کہ یہاں {”ظَلَّامٌ“} مبالغے کے لیے نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات عالی ہے جس کی طرف ظلم کی نسبت بھی نہیں ہو سکتی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔