ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحج (22) — آیت 10

ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ یَدٰکَ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿٪۱۰﴾
یہ اس کی وجہ سے ہے جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور (اس لیے) کہ اللہ ہرگز اپنے بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ En
(اے سرکش) یہ اس (کفر) کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں
En
یہ ان اعمال کی وجہ سے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے تھے۔ یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) {وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۲) اور انفال (۵۱) بعض اہل علم نے اس کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ {فَعَّالٌ} کا وزن ہمیشہ مبالغہ کے لیے نہیں آتا، بلکہ بعض اوقات صرف نسبت کے لیے یعنی {ذُوْ شَيْءٍ} (کسی چیز والا) کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے {سَمَّانٌ} (گھی والا)، { قَطَّانٌ } (روئی والا)، {حَدَّادٌ} (لوہار)، {تَمَّارٌ} (کھجوروں والا)، مطلب یہ ہے کہ یہاں {ظَلَّامٌ} مبالغے کے لیے نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات عالی ہے جس کی طرف ظلم کی نسبت بھی نہیں ہو سکتی۔