(آیت 99){لَوْكَانَهٰۤؤُلَآءِاٰلِهَةًمَّاوَرَدُوْهَا …: ”وَرَدُوْا“} کی ضمیر پوجنے والوں اور ان کے بنائے ہوئے معبودوں سب کی طرف جاتی ہے، اس لیے اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک یہ کہ اگر لات، منات، عزیٰ یا شیاطین وغیرہ معبود ہوتے تو ان کو پوجنے والے جہنم میں داخل نہ ہوتے، بلکہ ان کے معبود ان کو بچا لیتے۔ دوسری یہ کہ اگر یہ معبود ہوتے تو کم از کم خود ہی جہنم میں داخل نہ ہوتے، مگر جب {”كُلٌّفِيْهَاخٰلِدُوْنَ“} یعنی پوجنے والے اور جنھیں پوجا گیا سب جہنم کا ایندھن ہیں تو ان کے بنائے ہوئے خدا معبود کیسے ہو گئے؟ اس آیت پر مشرکین کے اعتراض کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ زخرف (۵۷ تا ۵۹)۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔