ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 80

وَ عَلَّمۡنٰہُ صَنۡعَۃَ لَبُوۡسٍ لَّکُمۡ لِتُحۡصِنَکُمۡ مِّنۡۢ بَاۡسِکُمۡ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ شٰکِرُوۡنَ ﴿۸۰﴾
اور ہم نے اسے تمھارے لیے زرہ بنانا سکھایا، تاکہ وہ تمھاری لڑائی سے تمھارا بچائو کرے۔ تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟
اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح) کا لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم کو لڑائی (کے ضرر) سے بچائے۔ پس تم کو شکرگزار ہونا چاہیئے
اور ہم نے اسے تمہارے لئے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضرر سے تمہارا بچاؤ ہو۔ کیا تم شکر گزار بنو گے؟

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80){وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ …: لَبُوْسٍ } اور { لِبَاسٌ} ایک ہی ہے جو موقع کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، چنانچہ لڑائی کا لباس زرہ ہے۔ یہ داؤد علیہ السلام پر تیسرا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہمراہ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کرنے کے علاوہ ان کے لیے لوہے کو بھی نرم کر دیا اور انھیں اس کی تاروں اور حلقوں سے زرہیں بنانے کا ہنر سکھایا۔ چنانچہ اتنی ہلکی اور عمدہ زرہیں بنانے کے موجد وہی ہیں۔ انھی سے دوسروں نے یہ فن سیکھا۔ یہ نعمت صرف انھی پر نہیں تھی، بلکہ قیامت تک تمام لڑنے والوں کے لیے نعمت ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر لازم ہے، تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ یہ سوال دراصل شکر کے حکم کی تاکید ہے۔ داؤد علیہ السلام کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ سبا (۱۰، ۱۱) اور سورۂ صٓ (۱۷ تا ۲۶)۔