(آیت 66){ قَالَاَفَتَعْبُدُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِ …:} ابراہیم علیہ السلام اتنے بڑے مجمع میں ان کی زبان سے یہی کہلوانا چاہتے تھے اور سب کچھ اسی ترتیب سے ہو رہا تھا جو ابراہیم علیہ السلام کی توقع اور خواہش کے مطابق تھی۔ ان کے لیے توحید کی دعوت اور شرک کے رد کا ایسا سنہرا موقع شاید اس سے پہلے کبھی نہ آیا ہو، چنانچہ فرمایا کہ جب یہ بول ہی نہیں سکتے تو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو پھر کیا تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو تمھیں نہ کچھ فائدہ پہنچاتی ہیں اور نہ نقصان؟ {”مَا“} کا لفظ عموماً ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں عقل نہیں ہوتی۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔