ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 50

وَ ہٰذَا ذِکۡرٌ مُّبٰرَکٌ اَنۡزَلۡنٰہُ ؕ اَفَاَنۡتُمۡ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾
اور یہ ایک با برکت نصیحت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، تو کیا تم اسی سے منکر ہو؟
یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟
اور یہ نصیحت وبرکت واﻻ قرآن بھی ہم ہی نے نازل فرمایا ہے کیا پھر بھی تم اس کے منکر ہو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) ➊ {وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ: هٰذَا } (یہ) سے مراد قرآن مجید ہے، سامعین کے ذہن میں حاضر ہونے کی وجہ سے اس کی طرف { هٰذَا } کے ساتھ اشارہ فرمایا ہے۔ { ذِكْرٌ } یعنی یہ نصیحت ہے اور یاد دہانی بھی۔ { مُبٰرَكٌ } جس میں بہت برکت، یعنی بے شمار بھلائیاں ہیں اور ہم نے (اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا ہے) اسے نازل کیا ہے۔
➋ { اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ:} ہم نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو تورات اور معجزات عطا کیے، تم لوگ انھیں مانتے ہو تو یہ بابرکت ذکر یعنی قرآن بھی ہم نے ہی نازل کیا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہیں مانتے؟