(آیت 27) ➊ {لَايَسْبِقُوْنَهٗبِالْقَوْلِ:} یعنی ان کی بندگی اور فرماں برداری کا یہ حال ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر بات تک نہیں کرتے۔ ➋ { وَهُمْبِاَمْرِهٖيَعْمَلُوْنَ: ”بِاَمْرِهٖ“} کو پہلے لانے سے دو باتیں واضح ہوئیں، ایک یہ کہ وہ جو کرتے ہیں اس کے حکم سے کرتے ہیں، اس کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔ دوسری یہ کہ وہ ہر کام صرف اس کے حکم سے کرتے ہیں، کسی اور کے حکم سے نہیں۔ غور کرو، بندگی اور غلامی کی انتہا ہے کہ مولا کی مرضی کے بغیر نہ بولتے ہیں نہ کچھ کرتے ہیں، بھلا اولاد بھی اس طرح ہوتی ہے؟ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ سے اولاد کی نفی فرمائی۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔