ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 106

اِنَّ فِیۡ ہٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰبِدِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾ؕ
بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا عظیم پیغام ہے جو عبادت کرنے والے ہیں۔
عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے
عبادت گزار بندوں کے لئے تو اس میں ایک بڑا پیغام ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 106){ اِنَّ فِيْ هٰذَا لَبَلٰغًا …:} یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں توحید، آخرت، انبیاء کے واقعات اور جو دوسرے مضامین بیان ہوئے ہیں ان میں ان لوگوں کے لیے بہت بڑا پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی عبادت پر آمادہ ہی نہیں، بلکہ شیطان اور نفس کی پیروی پر ڈٹے ہوئے ہیں انھیں اس قرآن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آنکھوں میں روشنی ہو تو سورج یا چراغ کی روشنی کا فائدہ ہوتا ہے، اندھے کو چراغ سے کچھ دکھائی نہ دے تو اس میں چراغ کا کوئی قصور نہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲) میں { هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ } کی تفسیر۔