(آیت 106){ اِنَّفِيْهٰذَالَبَلٰغًا …:} یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں توحید، آخرت، انبیاء کے واقعات اور جو دوسرے مضامین بیان ہوئے ہیں ان میں ان لوگوں کے لیے بہت بڑا پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی عبادت پر آمادہ ہی نہیں، بلکہ شیطان اور نفس کی پیروی پر ڈٹے ہوئے ہیں انھیں اس قرآن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آنکھوں میں روشنی ہو تو سورج یا چراغ کی روشنی کا فائدہ ہوتا ہے، اندھے کو چراغ سے کچھ دکھائی نہ دے تو اس میں چراغ کا کوئی قصور نہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲) میں {”هُدًىلِّلْمُتَّقِيْنَ“} کی تفسیر۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔