ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 102

لَا یَسۡمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَا ۚ وَ ہُمۡ فِیۡ مَا اشۡتَہَتۡ اَنۡفُسُہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ۚ
وہ اس کی آہٹ نہیں سنیں گے اور وہ اس میں جسے ان کے دل چاہیں گے، ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے
وه تو دوزخ کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور اپنی من بھاتی چیزوں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 102) ➊ { لَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَهَا:} یہ دوسری نعمت ہے کہ جہنم کی ہلکی سے ہلکی محسو س ہونے والی آواز بھی ان کے کانوں میں نہیں آئے گی کہ انھیں کسی طرح بھی تکلیف پہنچ سکے۔ مراد جنت میں جانے کے بعد ہے۔ (قرطبی)
➋ { وَ هُمْ فِيْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ:} یہ تیسری نعمت ہے، یعنی اہل جنت کے دل کی ہر خواہش نہ صرف یہ کہ پوری ہو گی (حم السجدہ: ۳۰ تا ۳۲) بلکہ ان کی من پسند ہر نعمت دائمی اور ابدی بھی ہو گی، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔