ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ طه (20) — آیت 78

فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُوۡدِہٖ فَغَشِیَہُمۡ مِّنَ الۡیَمِّ مَا غَشِیَہُمۡ ﴿ؕ۷۸﴾
پس فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا تو انھیں سمندر سے اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے انھیں ڈھانپا۔ En
پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا (کی موجوں) نے ان پر چڑھ کر انہیں ڈھانک لیا (یعنی ڈبو دیا)
En
فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا تعاقب کیا پھر تو دریا ان سب پر چھا گیا جیسا کچھ چھا جانے واﻻ تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 78){ فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ:} یعنی ان کو سمندر سے ایسی عظیم چیز نے ڈھانپ لیا جو انسانی بیان میں نہیں آ سکتی اور اگر اللہ تعالیٰ اسے اس طرح بیان فرمائے جس طرح اسے بیان کرنے کا حق ہے تو انسان کی کوتاہ عقل میں وہ سما نہیں سکتی، اس لیے اس کی تفصیل مت پوچھو۔ مراد ان سب کا سمندر میں غرق ہونا، پانی کی راہ سے آگ کا ایندھن بننا اور مرتے وقت اور بعد میں فرشتوں کی مار بے حساب و بے شمار ہے جو بیان سے باہر ہے۔ دیکھیے سورۂ مومن (۴۵، ۴۶) اس کی مزید مثالیں یہ ہیں: «{ اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ يَغْشٰى [النجم: ۱۶] اور: «{ وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى (53) فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰى [النجم: ۵۳، ۵۴] اور: «{فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى [النجم: ۱۰]