ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ طه (20) — آیت 59

قَالَ مَوۡعِدُکُمۡ یَوۡمُ الزِّیۡنَۃِ وَ اَنۡ یُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًی ﴿۵۹﴾
کہا تمھارے وعدے کا وقت زینت کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں۔ En
موسیٰ نے کہا آپ کے لئے (مقابلے کا) دن نو روز (مقرر کیا جاتا ہے) اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکھٹے ہوجائیں
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ زینت اور جشن کے دن کا وعده ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59){ قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ …: ضُحًى } وہ وقت جب سورج نکلنے کے بعد اس کی حرارت کا آغاز ہوتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام تو خود چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں، تاکہ ان تک حق کا پیغام پہنچے اور وہ معجزات الٰہی کو اور حق کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ چنانچہ { يَوْمُ الزِّيْنَةِ } اور دوپہر کا وقت مقرر کر دیا گیا، تاکہ لوگ چھٹی کی وجہ سے فارغ ہوں اور دوپہر تک تمام علاقوں سے ہر شخص آسانی سے پہنچ جائے، دن کی روشنی زیادہ سے زیادہ ہو اور اگر مقابلہ طول پکڑ جائے تو مغرب تک لمبا وقت مل جائے۔ { يَوْمُ الزِّيْنَةِ } مصریوں کے ہاں معروف دن تھا، یہ اس دن منایا جاتا جب نیل کی طغیانی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی اور دور تک پانی پھیل جاتا، جس کے بعد فصلوں کی کاشت کا آغاز ہوتا۔ ابن عاشور رحمہ اللہ نے اس کا اندازہ پندرہ ستمبر لگایا ہے۔ تفصیل التحریر والتنویر میں دیکھیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے جگہ کا ذکر نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ { يَوْمُ الزِّيْنَةِ } میں تمام لوگوں کا جشن منانے کے لیے کسی خاص جگہ جمع ہونا معروف تھا، جیسا کہ حکومتوں نے بڑے بڑے سٹیڈیم بنا رکھے ہوتے ہیں، اس لیے زینت کا دن اور وقت طے کرنے کے بعد جگہ کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔