(آیت 36){قَالَقَدْاُوْتِيْتَ …:} یعنی تم نے منہ مانگی مراد پالی اور ہم نے تمھاری ہر درخواست کو منظور فرما لیا۔ سینہ کھل گیا، کام آسان ہو گیا، زبان کی گرہ بھی مکمل یا بقدر ضرورت کھل گئی۔ چنانچہ اس کے بعد ہر جگہ موسیٰ علیہ السلام نے خود ہی فرعون اور جادوگروں سے بحث کی ہے، کہیں ہارون علیہ السلام کا ذکر نہیں آیا او رہارون علیہ السلام کو بھی نبی بنا کر وزیر بنا دیا گیا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔