ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ طه (20) — آیت 134

وَ لَوۡ اَنَّـاۤ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِعَذَابٍ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَقَالُوۡا رَبَّنَا لَوۡ لَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَیۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَ نَخۡزٰی ﴿۱۳۴﴾
اور اگر ہم انھیں اس سے پہلے کسی عذاب کے ساتھ ہلاک کر دیتے تو یہ لوگ ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے، اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ہوں اور رسوا ہوں۔ En
اور اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام (واحکام) کی پیروی کرتے
En
اور اگر ہم اس سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یقیناً یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ورسوا ہوتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 134){ وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو عذاب دینے سے پہلے انبیاء کو مبعوث کرنے اور کفار کو مہلت دینے کی حکمت دوبارہ بیان فرمائی۔ اس سے مقصود ان کا عذر ختم کرنا اور ان پر حجت تمام کرنا ہے اور یہی ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا دستور رہا ہے۔ دیکھیے سورۂ قصص (۵۹) اور بنی اسرائیل (۱۵)۔