اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے چلے آئیں گے، جس کے لیے کوئی کجی نہ ہوگی اور سب آوازیں رحمان کے لیے پست ہو جائیں گی، سو تو ایک نہایت آہستہ آواز کے سوا کچھ نہیں سنے گا۔
En
اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور خدا کے سامنے آوازیں پست ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے
جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور اللہ رحمنٰ کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا
En
(آیت 108) ➊ {يَوْمَىِٕذٍيَّتَّبِعُوْنَالدَّاعِيَ …:} یعنی قیامت کے دن سب لوگ حشر کے لیے قبروں سے نکل کر پکارنے والے کی آواز کی طرف نہایت تیزی کے ساتھ سر اٹھائے ہوئے دوڑتے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ مُهْطِعِيْنَمُقْنِعِيْرُءُوْسِهِمْ }»[إبراہیم: ۴۳]”اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے۔“ اس کی طرف جانے میں کوئی کجی نہ ہو گی، یعنی تیر کی طرح سیدھے جائیں گے اور ذرہ بھر ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ اس حالت کا نقشہ سورۂ ابراہیم (۴۲، ۴۳)، سورۂ قمر (۶ تا ۸) اور سورۂ قٓ (۴۱، ۴۲) میں دیکھیے۔ {”لَاعِوَجَلَهٗ“} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ پکارنے والے کی پکار میں کوئی کجی نہ ہو گی کہ کسی تک پہنچے اور کسی تک نہ پہنچے، ہر شخص تک سیدھی پہنچے گی۔ ➋ { وَخَشَعَتِالْاَصْوَاتُ …:} یعنی اتنی بے شمار مخلوق کے دوڑنے اور اکٹھے ہونے پر کوئی شور و غل نہ ہو گا۔ سب آوازیں رحمان کے لیے پست ہو جائیں گی۔ ”رحمان“ کے لیے پست ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس بے حد رحم والے رب کی رحمت اور اس کے کرم کی طلب میں سب عاجزی سے خاموش ہوں گے۔ {”هَمْسًا“} ہلکی سے ہلکی آواز یا قدموں کی ہلکی سے ہلکی آہٹ، کھسکھساہٹ۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔