ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ طه (20) — آیت 100

مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡہُ فَاِنَّہٗ یَحۡمِلُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وِزۡرًا ﴿۱۰۰﴾ۙ
جو اس سے منہ پھیرے گا تو یقینا وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا۔ En
جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن (گناہ کا) بوجھ اُٹھائے گا
En
اس سے جو منھ پھیر لے گا وه یقیناً قیامت کے دن اپنا بھاری بوجھ ﻻدے ہوئے ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101،100){ مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ …:} منہ پھیرنے سے مراد اس نصیحت پر ایمان نہ لانا اور عمل نہ کرنا ہے۔ { وِزْرًا } پر تنوین تعظیم و تہویل کے لیے ہے، بڑا بوجھ، بھاری بوجھ۔ { حِمْلًا } بمعنی {مَحْمُوْلٌ} ہے، جیسے {ذِبْحٌ} بمعنی {مَذْبُوْحٌ} ہے، اٹھایا ہوا (بوجھ)۔ { سَآءَ } فعل ذم ہے، جس کا فاعل ضمیر مبہم {هُوَ} ہے اور جس کے ابہام کی توضیح { حِمْلًا } تمیز کے ساتھ کی گئی ہے۔