ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 90

بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بَغۡیًا اَنۡ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ۚ فَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۹۰﴾
بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انھوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا کہ اس چیز کا انکار کر دیں جو اللہ نے نازل فرمائی، اس ضد سے کہ اللہ اپنا کچھ فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ پس وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے اور کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ En
جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے
En
بہت بری ہے وه چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈاﻻ، وه ان کا کفر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده چیز کے ساتھ محض اس بات سے جل کر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل اپنے جس بنده پر چاہا نازل فرمایا، اس کے باعﺚ یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کافروں کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 90) یعنی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لینے کے باوجود کہ یہ وہی نجات دلانے والا ہے جس کے آنے کی وہ دعائیں کرتے تھے، آپ کا انکار کیا، تو اس کی وجہ صرف ان کی یہ ضد، نسلی تعصب اور حسد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی ان میں کیوں نہیں بھیجا اور اپنے فضل سے ایک ان پڑھ قوم عرب کو کیوں نوازا۔ یہ نہ سوچا کہ اللہ اپنے فضل کا خود مالک ہے، وہ جسے چاہے نواز دے۔ ان کے اس حسد کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غضب پر غضب لے کر پلٹے۔ پہلے جرائم، جن کا گزشتہ آیات میں ذکر ہے، ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث تھا، مثلاً بچھڑے کی عبادت، تورات میں تحریف، رسولوں کا قتل، عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب وغیرہ، اب آخر الزماں نبی کو جھٹلایا تو مزید غضب کا نشانہ بنے، چنانچہ { بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ } کا معنی پہلا اور دوسرا غضب نہیں، بلکہ بار بار اور بڑا غضب ہے، جس کی وجہ سے انھیں { الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ } فرمایا گیا ہے۔