ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 9

یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَ مَا یَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ؕ﴿۹﴾
اللہ سے دھوکا بازی کرتے ہیں اور ان لوگوں سے جو ایمان لائے، حالانکہ وہ اپنی جانوں کے سوا کسی کو دھوکا نہیں دے رہے اور وہ شعور نہیں رکھتے ۔ En
یہ (اپنے پندار میں) خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے اور اس سے بے خبر ہیں
En
وه اللہ تعالیٰ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، لیکن دراصل وه خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں، مگر سمجھتے نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) { يُخٰدِعُوْنَ} باب مفاعلہ سے ہے جس میں مشارکت پائی جاتی ہے، اس لیے ترجمہ دھوکا بازی کیا گیا ہے، یعنی وہ دل میں کفر چھپاتے اور ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکا دینے میں کامیاب ہیں، حالانکہ دھوکا ان کے ساتھ ہو رہا ہے کہ دنیا میں انھیں مسلمان قرار دیاگیا اور انھیں مسلمانوں والے حقوق اور فوائد حاصل رہے، مگر آخرت میں وہ آگ کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے، فرمایا: «{ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ [النساء: ۱۴۲] بے شک منافق لوگ اللہ سے دھوکا بازی کر رہے ہیں، حالانکہ وہ انھیں دھوکا دینے والا ہے۔ اور انھیں اس (خود فریبی) کا شعور بھی نہیں۔